حضرت مولانا محمد انورشاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ان تحریروں سے قادیانیت پوری طرح بے نقاب ہوئی۔ انہیں پڑھ کر ان کے غیر مسلم ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ جو لوگ پہلے مسلمان تھے پھر وہ قادیانی ہوئے اب وہ محض غیر مسلم نہیں مرتد سمجھے جائیں گے جن کے لئے عام کافروں کا سا حکم نہیں بلکہ مرتد کا حکم اور زیادہ سخت ہے اور جو قادیانی ان کی ذریت ہیں وہ زندیق شمار ہوں گے کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے باز نہیں آتے۔ نام اسلام کا ہو اور عقائد غیر اسلامی ہوں تو یہ وہ زندقہ ہے جسے اسلام میں برداشت نہیں کیا گیا۔ یہ زنادقہ مرتدین کے ساتھ شمار ہوں گے۔ جب قادیانی عام سطح پر غیر مسلم سمجھے گئے تو اب اسلامی دنیا کو ان کے حکم سے مطلع کرنا بھی ضروری بنا۔ اس میں بھی پہل علماء دیوبند نے کی۔
شیخ الاسلام حضرت مولاناشبیر احمد عثمانی ؒنے اپنے رسالہ’’الشھاب لرجم الخاطف المرتاب‘ ‘ میںقادیانیت کا شرعی حکم تحریر فرمایا۔ اس میں آپ نے نہایت سلیس‘ معقول اور منصفانہ طریقہ سے مرزائیوں کے ارتداد کا ثبوت‘ قتل مرتد کے شرعی دلائل اور اس کا عقلی فلسفہ اور جہاد بالسیف کی حکمت اور حدود افغانستان کے فیصلہ دربارہ تعزیز مرتد کی تحسین وتصویب کی۔ آپ نے یہ رسالہ ۱۸ ربیع الاول۱۳۷۳ھ کو شائع کیا پھر ۶ فروری۱۹۲۵ء کو مرزا غلام احمد قادیانی کے لاہوری جانشین مسٹر محمد علی مرزائی نے اس کے جواب میں ایک رسالہ لکھا۔ مولانا شبیر احمدصاحب عثمانی ؒنے اس کے دو ماہ بعد اپنے رسالہ الشہاب کی ایک تذنیب جمادی الاخریٰ ۱۴۷۳ھ میں شائع کی۔
حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی اس تحریک پر ان کے جن تلامذہ نے ردقادیانیت میں محنت کی ان میں دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فرزند محدث کبیر حضرت مولانا سیدبدر عالم میرٹھی مہاجر مدنی ؒ کے رد قادیانیت پر تمام رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔
ضرورت تھی کہ ان تمام قدیم تالیفات کو جن کے بل بوتے پر ملت اسلامیہ نے پاکستان میں دو دفعہ ختم نبوت کے محاذ کھولے اور بالآخر قادیانیوں کو دستور اور قانون کے تقاضوں میں ایک غیر مسلم اقلیت ٹھہرایا۔ پھر سے بطور تاریخی دستاویزات کے شائع اور محفوظ کیا جائے۔راقم الحروف اسی سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کو ہدیہ تبریک پیش کرتا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے علمی احتساب کو نمبر وار شائع کرنے کا قصد کیا ہے۔ جب سے برصغیر پاک وہند میں قادیانیت کا پودا لگا۔ الحمدﷲ! مجلس نے اس سلسلہ میں بہت سا کام کیا ہے۔ حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اتنا عظیم کام کرنے اور کامیابی سے کنارے اترنے پر لائق صد تبریک ہیں۔ اب تک اس سلسلہ میں جن بزرگوں کی تحریریں شائع ہوچکیں ان کے اسماء گرامی‘ سن ولادت‘ سن وفات ہدئیہ قارئین ہیں:
۱…حکیم الامت حضرت مولانا سیدمحمد اشرف علی تھانویؒ۔۔۔(و۱۸۶۳ئ‘ م ۱۹۴۳ئ)
۲… امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ۔۔۔۔۔۔۔(و۱۸۷۵ئ‘م۱۹۳۳ئ)
۳…شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم۔۔۔۔۔۔(و۱۸۸۹ئ‘م۱۹۴۹ئ)
۴…شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ۔۔۔۔(و۱۸۹۸ئ‘م۱۹۷۴ئ)
۵…مناظر اسلام حضرت مولانا حبیب اﷲ امرتسریؒ۔۔۔۔۔۔(و۱۸۹۸ئ‘م۱۹۴۸ئ)