ظفر علی خانؒ نے انجمن دعوت وارشاد قائم کی اور حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے تمام شاگردوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی اور حکومتی سطح پر قادیانیوں کے مسلمانوں کے ساتھ رہنے کے نقصانات بیان کئے۔ آپ پہلے بزرگ ہیں جن کی عقابی نگاہ نے قادیانیت کو پورے اسلام کے خلاف ایک خطرناک یلغار سمجھا۔آپ نے دیوبند میں اپنی قیام گاہ واقع محلہ خانقاہ دیوبند سے ۱۲ذیقعدہ۱۳۵۱ھ کو دعوت حفظ ایمان کے نام سے ایک عظیم فکری دعوت پیش کی۔
آپ نے اپنی اس دعوت میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صرف بڑوں کو ہی نہیں اس کے لاہوری فرقہ کے پیرئوں کو بھی برابر ساتھ رکھا اور پھر ۲۲ ذیقعدہ کو’’دعوت حفظ ایمان‘‘ کی ایک اور صدا لگادی۔ آپ کی یہ دنوں تحریریں عرصہ سے نایاب تھیں اور ضرورت تھی کہ ہندوستان میں قادیانیت کے خلاف جو اردو میں کام ہوا۔ اس میں کفر واسلام کے جو اصولی فاصلے سامنے آئے ان میں حضرت شاہ صاحبؒ کی ان تحریروں کو سنگ بنیاد سمجھا جائے۔
آپ کے شاگردوں نے پنجاب میں مجلس مستشار العلماء قائم کی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں اس کی برانچیں قائم کیں۔ آپ نے پورے عالم اسلام کی طرف سے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی صدا بلند کی تو قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی بات پورے ہندوستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ انگریزی دستور حکومت میں قادیانی گو مسلمانوں میں سے ہی سمجھے جاتے تھے لیکن نکاح اور فسخ نکاح اور شمولیت نماز جنازہ جیسے مسائل میں قادیانی پورے ہندوستان میں غیر مسلم اقلیت سمجھے جانے لگے اور مقبوضہ ہندوستان کی انگریزی عدالتوں میں بھی خاوند کے قادیانی ہونے پر مسلم خواتین کے نکاح فسخ ہوئے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے بھی حضرت شاہ صاحبؒ سے یہ سبق لیا اور انجمن حمایت اسلام لاہور میں یہ تحریک پیش کی کہ کوئی قادیانی اس کا ممبر نہ ہوسکے اور جو پہلے سے اس میں شامل ہیں وہ یکسر خارج کردئیے جائیں۔
حضرت شاہ صاحبؒ کا عالم عرب کو انتباہ
آپ نے قادیانیت کو صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ہی خطرہ نہ جانا بلکہ آپ نے حفظ ایمان کی یہ دعوت پورے عالم اسلام میں پھیلادی۔ عرب دنیا کو اس پر مطلع کرنے کے لئے عقیدۃ الاسلام اور اکفارالملحدین فی انکار شی من ضروریات الدین جیسی مؤثر کتابیں عربی میں لکھیں۔ حضرت شاہ صاحب کی یہ عربی کتابیں تو بار بار چھپتی رہیں اور علماء نے ان کی روشنی میں اردو میں بھی اس پر بہت وقیع لٹریچر مہیا کیا لیکن حضرت شاہ صاحب کی حفظ ایمان کی یہ اردو تحریریں عرصہ سے نایاب تھیں جن کو اس مجموعہ میں شامل کردیا گیا ہے۔ اس طرح سرکاری وعدالتی سطح پر قادیانیت کے کفریہ فیصلہ کے لئے بنیادی کردار حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒکے اس بیان کا ہے جو آپ نے بہاولپور کی عدالت میں قادیانیوں کے خلاف دیا۔ وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’الخطاب الملیح فی تحقیق المھدی والمسیح‘‘ لکھی۔ یہ کتاب مطبع ہلالی سٹیم پریس ساڈہورہ ضلع انبالہ سے چھپی۔ پھر حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ۱۳۳۸ھ میں ’’قائد قادیان‘‘کے نام سے ایک رسالہ لکھا جو ۱۳۴۰ھ میں شائع ہوا۔حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے دونوں متذکرہ رسائل اس مجموعہ میں شامل ہیں۔
آپ نے اس کی فصل ثانی میں ان کتابوں کی بھی ایک فہرست دی ہے جو خانقاہ رحمانیہ محلہ مخصوص پورہ مونگیر سے شائع ہوئیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ بھی مرزا غلام احمد قادیانی کی تردید میں بہت سرگرم رہے۔