Deobandi Books

زبدۃ الفقہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع جلد 2

3 - 109

 طہارت کا بیان 


 نماز کی شرطوں میں پہلی شرط بدن کی طہارت یعنی بدن کا پاک ہونا ہے ، اس کی دو صورتیں ہیں۔ 
 اول نجاست حقیقی سے پاک ہونا اور وہ یہ کہ جسم پر کوئی ظاہری یعنی نظر آنے والی ناپاک چیز ہو تو اس کو پانی سے دھو کر پاک کیا جائے دوم یہ کہ اگرچہ ظاہر میں جسم پر کوئی ناپاک چیز لگی ہوئی نہ ہو لیکن پھر بھی جسم شرعی حکم سے ناپاک ہو۔ مثلاً کوئی شخص جنابت کی وجہ سے ناپاک ہو اس نے اپنے جسم کی ظاہری نجاست تو دھو ڈالی لیکن جب تک وہ باقاعدہ غسل نہ کرے اس وقت تک اس کا جسم ناپاک رہے گا اور اس شخص کے لئے نماز ادا کرنا اور مسجد میں داخل ہونا جائز و درست نہیں ہے۔ یا کوئی شخص جنبی تو نہیں لیکن بے وضو ہے یعنی پیشاب و پاخانہ کے بعد استنجاء تو کر لیا لیکن وضو نہیں کیا تو یہ شخص بھی شرعاً ناپاک ہے اور اس کو نماز پڑھنا اور قرآن مجید کا چھونا جائز نہیں ہے۔ ایسی نجاست کو نجاست حکمی کہتے ہیں یعنی وہ نجاست جو دیکھنے میں نہ آسکے بلکہ شریعت کے حکم سے ثابت ہوتی ہے اور یہ نجاستِ حکمی دو قسم کی ہے۔ 
 اول بے وضو ہونا اس کو حدث اصغر کہتے ہیں ، 
 دوم غسل فرض ہونا اس کو حدث اکبر کہتے ہیں ، 

Flag Counter